📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل (كتاب الديات) 🏷️ باب: باب: زخمی کرنے والا بدلے میں فدیہ دے تو اس کے حکم کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2638 Sunan Ibn Majah 2638
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
10: بَابُ : الْجَارِحِ يَفْتَدِي بِالْقَوَدِ
باب: زخمی کرنے والا بدلے میں فدیہ دے تو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا" فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ: " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا" فَرَضُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ"، قَالُوا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا أَرَضِيتُمْ"، قَالُوا: لَا، فَهَمَّ بِهِمْ الْمُهَاجِرُونَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا فَكَفُّوا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ، فَقَالَ: " أَرَضِيتُمْ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ"، قَالُوا: نَعَمْ، فَخَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " أَرَضِيتُمْ"، قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ ابْن مَاجَةَ: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: تَفَرَّدَ بِهَذَا مَعْمَرٌ لَا أَعْلَمُ رَوَاهُ غَيْرُهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کو مصدق ( عامل صدقہ ) بنا کر بھیجا ، زکاۃ کے سلسلے میں ان کا ایک شخص سے جھگڑا ہو گیا ، ابوجہم رضی اللہ عنہ نے اسے مارا تو اس کا سر پھٹ گیا ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور قصاص کا مطالبہ کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا تم اتنا اتنا مال لے لو “ ، وہ راضی نہیں ہوئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا اتنا اتنا مال ( اور ) لے لو “ ، تو وہ راضی ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں لوگوں کے سامنے خطبہ دوں ، اور تم لوگوں کی رضا مندی کی خبر سناؤں ؟ کہنے لگے : ٹھیک ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا : ” یہ لیث کے لوگ میرے پاس آئے اور قصاص لینا چاہتے تھے ، میں نے ان سے اتنا اتنا مال لینے کی پیشکش کی اور پوچھا : کیا وہ اس پر راضی ہیں “ ؟ کہنے لگے : نہیں ، ( ان کے اس رویہ پر ) مہاجرین نے ان کو مارنے پیٹنے کا ارادہ کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں باز رہنے کو کہا ، تو وہ رک گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلایا اور کچھ اضافہ کر دیا ، اور پوچھا : ” کیا اب راضی ہیں “ ؟ انہوں نے اقرار کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : ” کیا میں خطبہ دوں اور لوگوں کو تمہاری رضا مندی کی اطلاع دے دوں “ ؟ جواب دیا : ٹھیک ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، اور پھر کہا : ” تم راضی ہو “ ؟ جواب دیا : جی ہاں ۱؎ ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں : میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا کہ معمر اس حدیث کو روایت کرنے میں منفرد ہیں ، میں نہیں جانتا کہ ان کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2638]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں ان کی رضا مندی کی بات اس لئے کہتے تھے تاکہ لوگ گواہ ہو جائیں اور پھر وہ اپنے اقرار سے مکر نہ سکیں چونکہ آپ کو ان کی صداقت پر بھروسہ نہ تھا، اور ایسا ہوا بھی، پہلی بار راضی ہو کر گئے، مگر خطبہ کے وقت کہنے لگے کہ ہم راضی نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (4534) نسائي (4782) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 474
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الدیات 13 (4534)، سنن النسائی/القسامة 20 (4782)، (تحفة الأشراف: 16636)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/232) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #2638
2636 2637 2638 2639 2640
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ