سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2636
Sunan Ibn Majah 2636
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
9: بَابُ : مَا لاَ قَوَدَ فِيهِ
باب: جن چیزوں میں قصاص نہیں بلکہ دیت ہے ان کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ ، حَدَّثَنِي نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا ضَرَبَ رَجُلًا عَلَى سَاعِدِهِ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا مِنْ غَيْرِ مَفْصِلٍ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ بِالدِّيَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْقِصَاصَ، قَالَ: " خُذْ الدِّيَةَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا" وَلَمْ يَقْضِ لَهُ بِالْقِصَاصِ.
جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کی کلائی پر تلوار ماری جس سے وہ کٹ گئی ، لیکن جوڑ پر سے نہیں ، پھر زخمی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دیت ( خون بہا ) دینے کا حکم فرمایا ، وہ بولا : اللہ کے رسول ! میں قصاص لینا چاہتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیت لے لو ، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت دے ، اور اس کے لیے قصاص کا فیصلہ نہیں فرمایا ” ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2636]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ دهثم: ضعيف جدًا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3180، ومصباح الزجاجة: 930) (ضعیف) (سند میں دھثم بن قرّان الیمامی متروک ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإ رواء: 2235)