سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2637
Sunan Ibn Majah 2637
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
9: بَابُ : مَا لاَ قَوَدَ فِيهِ
باب: جن چیزوں میں قصاص نہیں بلکہ دیت ہے ان کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ ابْنِ صُهْبَانَ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا قَوَدَ فِي الْمَأْمُومَةِ وَلَا الْجَائِفَةِ وَلَا الْمُنَقِّلَةِ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو زخم دماغ یا پیٹ تک پہنچ جائے ، یا ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ سے ہٹ جائے ، تو اس میں قصاص نہ ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2637]
💡 وضاحت:
۱؎: جن زخموں کی دیت میں برابری ہو سکے ان میں قصاص کا حکم دیا جائے گا، مثلاً کوئی عضو جوڑ سے کاٹ ڈالے تو کاٹنے والے کا بھی وہی عضو جوڑ پر سے کاٹا جائے گا، اور جن زخموں میں برابری نہ ہو سکے تو ان میں قصاص کا حکم نہ ہو گا بلکہ دیت دلائی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ رشدين بن سعد: ضعيف ¤ وللحديث شاهد ضعيف وأخرج البيهقي (65/8) بإسناد حسن عن طلحة رضي اللّٰه عنه أن النبي ﷺ قال: ((ليس في المأمومة قود)) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5139، ومصباح الزجاجة: 931) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: (390)