سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2595
Sunan Ibn Majah 2595
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
28: بَابُ : مَنْ سَرَقَ مِنَ الْحِرْزِ
باب: حرز (محفوظ جگہ) میں سے چرانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ نَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ، فَأُخِذَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ، فَجَاءَ بِسَارِقِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ، فَقَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أُرِدْ هَذَا رِدَائِي عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ".
صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں سو گئے ، اور اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا ، کسی نے ان کے سر کے نیچے سے اسے نکال لیا ، وہ چور کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹے جانے کا حکم دیا ، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا مقصد یہ نہ تھا ، میری چادر اس کے لیے صدقہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے آخر میرے پاس اسے لانے سے پہلے ایسا کیوں نہیں کیا “ ؟ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2595]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر مسجد یا صحرا میں کوئی مال کا محافظ ہو تو اس کے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اکثر علماء اسی طرف گئے ہیں کہ قطع کے لئے حرز (یعنی مال کا محفوظ ہونا) ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحدود 14 (4394)، سنن النسائی/قطع السارق 4 (4882 مرسلاً)، (تحفة الأشراف: 4943)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 9 (28)، مسند احمد (3/401، 6/465، 466)، سنن الدارمی/الحدود 3 (2345) (صحیح)