سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2596
Sunan Ibn Majah 2596
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
28: بَابُ : مَنْ سَرَقَ مِنَ الْحِرْزِ
باب: حرز (محفوظ جگہ) میں سے چرانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثِّمَارِ، فَقَالَ: " مَا أُخِذَ فِي أَكْمَامِهِ فَاحْتُمِلَ، فَثَمَنُهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، وَمَا كَانَ مِنَ الْجِرَانِ، فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، وَإِنْ أَكَلَ وَلَمْ يَأْخُذْ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ"، قَالَ: الشَّاةُ الْحَرِيسَةُ مِنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " ثَمَنُهَا وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ، وَمَا كَانَ فِي الْمُرَاحِ، فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا كَانَ مَا يَأْخُذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھلوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص پھل خوشے میں سے توڑ کر چرائے تو اسے اس کی دوگنی قیمت دینی ہو گی ، اور اگر پھل کھلیان میں ہو تو ہاتھ کاٹا جائے گا ، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو ، اور اگر اس نے صرف کھایا ہو لیا نہ ہو تو اس پر کچھ نہیں “ ، اس شخص نے پوچھا : اگر کوئی چراگاہ میں سے بکریاں چرا لے جائے ( تو کیا ہو گا ) ؟ اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی دوگنی قیمت ادا کرنی ہو گی ، اور سزا بھی ملے گی ، اور اگر وہ اپنے باڑے میں ہو تو اس میں ( چوری کرنے پر ) ہاتھ کاٹا جائے بشرطیکہ چرائی گئی چیز کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2596]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوداود کی روایت میں ہے جو کوئی پھلوں کو منہ میں ڈال لے، اور گود میں بھر کر نہ لے جائے اس پر کچھ نہیں ہے، اور جو اٹھا کر لے جائے اس پر دوگنی قیمت ہے، اور سزا کے لئے مار ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/اللقطة 1 (1711)، الحدود 12 (4390)، (تحفة الأشراف: 8812)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 54 (1289)، سنن النسائی/قطع السارق 11 (4972)، مسند احمد (2/186) (حسن)