سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2593
Sunan Ibn Majah 2593
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
27: بَابُ : لاَ يُقْطَعُ فِي ثَمَرٍ وَلاَ كَثَرٍ
باب: پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ پھل چرانے سے ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ کھجور کا گابھا چرانے سے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2593]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث معلوم ہوا کہ میوہ، پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، جب تک یہ چیزیں محفوظ مقام میں سوکھنے کے لئے نہ رکھی جائیں، یعنی «جرین» (کھلیان) میں، مگر شرط یہ ہے کہ چور اس میوے یا پھل کو صرف کھا لے، اور گود میں بھر کر نہ لے جائے، اگر گود میں بھر کر لے جائے تو اس کو دوگنی قیمت اس کی دینا ہو گی، اور سزا کے لئے مار بھی پڑے گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الحدود 19 (1449)، سنن النسائی/قطع السارق 10 (4964)، (تحفة الأشراف: 3588)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحدود 12 (4388)، موطا امام مالک/الحدود 11 (32)، مسند احمد (3/463، 464)، سنن الدارمی/الحدود 7 (2350) (صحیح)