سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2555
Sunan Ibn Majah 2555
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
9: بَابُ : الرَّجْمِ
باب: زانی کو رجم کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، " أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا، فَأَمَرَ بِهَا، فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ رَجَمَهَا، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر زنا کا اعتراف کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دئیے گئے ، پھر اس کو رجم کیا ، اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2555]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تاکہ بے پردگی نہ ہو، بعضوں نے اس کے حق میں کچھ برے الفاظ نکالے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ سارے مدینہ والوں میں بانٹ دی جائے تو ان کو کافی ہو جائے گی، بے شک یہ عورت اس زمانہ کے تمام عابدوں اور زاہدوں سے درجہ میں زیادہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گناہ کا اقرار کیا، سزا پائی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ سے مشرف ہوئی، اللہ ان کے درجہ کو بلند کرے، آمین۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10879)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحدود 5 (1696)، سنن ابی داود/الحدود 25 (4440)، سنن الترمذی/الحدود 9 (1435)، سنن النسائی/الجنائز 64 (1959)، مسند احمد (4/420، 433، 437)، سنن الدارمی/الحدود 17 (2370) (صحیح)