سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2553
Sunan Ibn Majah 2553
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
9: بَابُ : الرَّجْمِ
باب: زانی کو رجم کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ حَتَّى يَقُولَ قَائِلٌ: مَا أَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ أَلَا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ إِذَا أُحْصِنَ الرَّجُلُ وَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ حَمْلٌ أَوِ اعْتِرَافٌ وَقَدْ قَرَأْتُهَا الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے اندیشہ ہے کہ جب زمانہ زیادہ گزر جائے گا تو کہنے والا یہ کہے گا کہ میں کتاب اللہ میں رجم ( کا حکم ) نہیں پاتا ، اور اس طرح لوگ اللہ تعالیٰ کے ایک فریضے کو ترک کر کے گمراہ ہو جائیں ، واضح رہے کہ رجم حق ہے ، جب کہ آدمی شادی شدہ ہو گواہی قائم ہو ، یا حمل ٹھہر جائے ، یا زنا کا اعتراف کر لے ، اور میں نے رجم کی یہ آیت پڑھی ہے : «الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموهما البتة» ” جب بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت زنا کریں تو ان دونوں کو ضرور رجم کرو ... “ ۱؎ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا ، اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2553]
💡 وضاحت:
۱؎: بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت سے مراد شادی شدہ لوگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحدود 30 (6829، 6830)، صحیح مسلم/الحدود 4 (1691)، سنن ابی داود/الحدود 23 (4418)، سنن الترمذی/الحدود 7 (1431، 1432)، (تحفة الأشراف: 10508)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 1 (1)، مسند احمد (1/ 23، 40، 47، 55)، سنن الدارمی/الحدود 16 (2368) (صحیح)