سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2554
Sunan Ibn Majah 2554
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
9: بَابُ : الرَّجْمِ
باب: زانی کو رجم کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى أَقَرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ بِيَدِهِ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ فَصَرَعَهُ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ فَقَالَ: " فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور کہا : میں نے زنا کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا ، انہوں نے پھر کہا : میں نے زنا کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا ، انہوں نے پھر کہا : میں نے زنا کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا ، انہوں نے پھر کہا : میں نے زنا کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا یہاں تک کہ چار بار زنا کا اقرار کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں رجم کر دیا جائے ، چنانچہ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے ، ایک شخص نے انہیں پا لیا ، اس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی ، اس نے ماعز کو مار کر گرا دیا ، پتھر پڑتے وقت ان کے بھاگنے کا تذکرہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آخر تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا “ ؟ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2554]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ ان سے پھر پوچھے شاید وہ اپنے اقرار سے پھر جاتے اور حد ساقط ہو جاتی، زنا کا اقرار ایک بار کرنا حد کے لئے کافی ہے، اور صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غامدیہ کو رجم کیا، اس نے ایک ہی بار اقرار کیا تھا، ایک یہودی اور یہودیہ کا رجم آگے مذکور ہو گا، اس میں بھی چار بار اقرار کا ذکر نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15034)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق 11 (5270)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1694)، سنن ابی داود/الحدود 24 (4419)، سنن الترمذی/الحدود 5 (1428) (حسن صحیح)