سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2519
Sunan Ibn Majah 2519
کتاب #20: کتاب: غلام کی آ زادی کے احکام و مسائل
3: بَابُ : الْمُكَاتَبِ
باب: مکاتب غلام کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا عَبْدٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أُوقِيَّاتٍ فَهُوَ رَقِيقٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس غلام سے سو اوقیہ پر مکاتبت کی گئی ہو ، اور وہ سوائے دس اوقیہ کے باقی تمام ادا کر دے ، تو وہ غلام ہی رہے گا “ ( جب تک پورا ادا نہ کر دے ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2519]
💡 وضاحت:
۱؎: اوقیہ: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، جو تقریباً ایک سو اٹھارہ گرام کے مساوی ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8673، ومصباح الزجاجة: 894)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/العتق 1 (3927)، سنن الترمذی/البیوع 35 (1260) (حسن) (سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن متابعت کی وجہ سے یہحسن ہے، نیزملاحظہ ہو: الإرواء: 1674)۔