سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2517
Sunan Ibn Majah 2517
کتاب #20: کتاب: غلام کی آ زادی کے احکام و مسائل
2: بَابُ : أُمَّهَاتِ الأَوْلاَدِ
باب: ام ولد (یعنی وہ لونڈی جس کی مالک سے اولاد ہو) کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: " كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَّنَا وَأُمَّهَاتِ أَوْلَادِنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا حَيٌّ لَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ اپنی لونڈیاں اور «امہات الاولاد» بیچا کرتے تھے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان زندہ تھے ، اور ہم اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2517]
💡 وضاحت:
۱؎: «امہات الاولاد» : وہ لونڈیاں جن کے بطن سے آقا (مالک) کی اولاد ہو چکی ہو۔ ابوداود کی روایت میں یہ زیادتی موجود ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ام ولد کے بیچنے سے منع فرما دیا، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے رک گئے، نیز اس حدیث کا جواب علماء نے یوں دیا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کو نسخ کی خبر نہیں ہوئی، پہلے ام ولد کی بیع جائز رہی ہو گی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہو گا، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا، جیسے جابر رضی اللہ عنہ نے متعہ کے باب میں بھی ایسی ہی روایت کی ہے کہ ہم متعہ کرتے رہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے شروع خلافت میں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا، حالانکہ متعہ کی حلت بالاجماع منسوخ ہے، اور جابر رضی اللہ عنہ کو اس کے نسخ کی اطلاع نہیں ہوئی، اسی طرح اس ممانعت کی بھی ان کو خبر نہیں ہوئی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2835، ومصباح الزجاجة: 893)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/العتق 8 (3954)، مسند احمد (3/321) (صحیح)