سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2472
Sunan Ibn Majah 2472
کتاب #17: کتاب: رہن کے احکام و مسائل
16: بَابُ : الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلاَثٍ
باب: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشِ بْنِ حَوْشَبٍ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْمَاءِ وَالْكَلَإِ وَالنَّارِ، وَثَمَنُهُ حَرَامٌ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: يَعْنِي الْمَاءَ الْجَارِيَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت ( ساجھے داری ) ہے : پانی ، گھاس اور آگ ، ان کی قیمت لینا حرام ہے “ ۱؎ ۔ ابوسعید کہتے ہیں : پانی سے مراد بہتا پانی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2472]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون وثمنه حرام
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ عبد اللّٰه بن خراش: ضعيف ¤ والحديث صحيح دون قوله”وثمنه حرام“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6418، ومصباح الزجاجة: 869) (صحیح) (سند میں عبداللہ بن خراش ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، وثمنہ حرام کا جملہ شاہد نہ ہونے سے ضعیف ہے)