سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2470
Sunan Ibn Majah 2470
کتاب #17: کتاب: رہن کے احکام و مسائل
15: بَابُ : تَلْقِيحِ النَّخْلِ
باب: کھجور کے درخت میں پیوند کاری کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ فَرَأَى قَوْمًا يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟، قَالُوا: يَأْخُذُونَ مِنَ الذَّكَرِ فَيَجْعَلُونَهُ فِي الْأُنْثَى، قَالَ: مَا أَظُنُّ ذَلِكَ يُغْنِي شَيْئًا فَبَلَغَهُمْ، فَتَرَكُوهُ فَنَزَلُوا عَنْهَا فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هُوَ الظَّنُّ، إِنْ كَانَ يُغْنِي شَيْئًا فَاصْنَعُوهُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَإِنَّ الظَّنَّ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ وَلَكِنْ مَا قُلْتُ لَكُمْ: قَالَ اللَّهُ: فَلَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ".
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجور کے باغ میں گزرا ، تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ نر کھجور کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ لوگ کیا کر رہے ہیں “ ؟ لوگوں نے عرض کیا : نر کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس سے کوئی فائدہ ہو گا “ ، یہ خبر جب ان صحابہ کو پہنچی تو انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا ، لیکن اس سے درختوں میں پھل کم آئے ، پھر یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میرا گمان تھا ، اگر اس میں فائدہ ہے تو اسے کرو ، میں تو تمہی جیسا ایک آدمی ہوں گمان کبھی غلط ہوتا ہے اور کبھی صحیح ، لیکن جو میں تم سے کہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ( تو وہ غلط نہیں ہو سکتا ہے ) کیونکہ میں اللہ تعالیٰ پر ہرگز جھوٹ نہیں بولوں گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2470]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفضائل 38 (2361)، (تحفة الأشراف: 5012)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/162) (صحیح)