📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: رہن کے احکام و مسائل (كتاب الرهون) 🏷️ باب: باب: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2474 Sunan Ibn Majah 2474
کتاب #17: کتاب: رہن کے احکام و مسائل
16: بَابُ : الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلاَثٍ
باب: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: " الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّارُ"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ، قَالَ: يَا حُمَيْرَاءُ! مَنْ أَعْطَى نَارًا، فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ، وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا، فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَ ذَلِكَ الْمِلْحُ، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ، فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کون سی ایسی چیز ہے جس کا روکنا جائز نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی ، نمک اور آگ “ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! پانی تو ہمیں معلوم ہے کہ اس کا روکنا جائز اور حلال نہیں ؟ لیکن نمک اور آگ کیوں جائز نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے حمیراء ! ۱؎ جس نے آگ دی گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جو اس پر پکا ، اور جس نے نمک دیا گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جس کو اس نمک نے مزے دار بنایا ، اور جس نے کسی مسلمان کو جہاں پانی ملتا ہے ، ایک گھونٹ پانی پلایا گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا ، اور جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ ایک گھونٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو گویا اس نے اس کو نئی زندگی بخشی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2474]
💡 وضاحت:
۱؎: حمیراء: حمراء کی تصغیر ہے یعنی اے گوری چٹی سرخی مائل رنگت والی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ ابن جدعان: ضعيف ¤ وتلميذه زهير بن مرزوق: مجهول (تقريب: 2050) ¤ وعلي بن غراب عنعن (كان يدلس: تق 4783) ¤ وللحديث شاهدان ضعيفان جدًا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16121، ومصباح الزجاجة: 871) (ضعیف) (علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3384)
سنن ابن ماجه • حدیث #2474
2472 2473 2474 2475 2476

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2472 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشِ بْنِ حَوْشَبٍ الشَّي...
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین چیزوں میں ...
#2473 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین چیزیں ایسی ہیں جن س...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ