سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2422
Sunan Ibn Majah 2422
کتاب #16: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
15: بَابُ : حُسْنِ الْمُطَالَبَةِ وَأَخْذِ الْحَقِّ فِي عَفَافٍ
باب: حق کا مطالبہ نرمی سے کرنے اور حق کو اچھے ڈھنگ سے وصول کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِصَاحِبِ الْحَقِّ خُذْ حَقَّكَ فِي عَفَافٍ، وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب حق سے فرمایا : ” شریفانہ انداز سے اپنا حق لو خواہ پورا ملے یا نہ ملے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2422]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں «عفاف» کا لفظ آیا ہے، مطلب یہ ہے کہ صاحب حق اچھے ڈھنگ اور شریفانہ طور طریقے سے قرض کا مطالبہ کرے، نرمی اور شفقت کا لحاظ رکھے، خلاف شرع سختی نہ کرے، اور گالی گلوچ نہ بکے یا وہی مال لے جو حلال ہے، حرام مال سے اپنا قرض پورا نہ کرے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13587، ومصباح الزجاجة: 850) (حسن صحیح)