سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2423
Sunan Ibn Majah 2423
کتاب #16: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
16: بَابُ : حُسْنِ الْقَضَاءِ
باب: اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خَيْرَكُمْ أَوْ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں بہتر وہ ہے یا بہتر لوگوں میں سے وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2423]
💡 وضاحت:
۱؎: قرض کا اچھی طرح ادا کرنا یہ ہے کہ قرض کے مال سے اچھا مال دے یا کچھ زائد دے یا قرض خواہ کا شکریہ ادا کرے، قرض میں زائد ادا کرنا مستحب ہے اور یہ منع نہیں ہے، منع وہ قرض ہے جس میں زیادہ دینے کی شرط ہو اور وہ سود ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوکالة 5 (2305)، 6 (2306)، الاستقراض 4 (2390)، 6 (2392)، 7 (2393)، 13 (2401)، الھبة 23 (2606)، 25 (2609)، صحیح مسلم/المساقاة 22 (1601)، سنن الترمذی/البیوع 75 (1316، 1317)، سنن النسائی/البیوع 62 (4622)، 101 (4697)، (تحفة الأشراف: 14963)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 373، 393، 416، 431، 456، 476، 509) (صحیح)