📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل (كتاب الكفارات) 🏷️ باب: باب: اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو مان لینے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2101 Sunan Ibn Majah 2101
کتاب #12: کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
4: بَابُ : مِنْ حُلِفَ لَهُ بِاللَّهِ فَلْيَرْضَ
باب: اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو مان لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ مَنْ حَلَفَ بِاللَّهِ فَلْيَصْدُقْ، وَمَنْ حُلِفَ لَهُ بِاللَّهِ فَلْيَرْضَ، وَمَنْ لَمْ يَرْضَ بِاللَّهِ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا : ” اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھاؤ ، جو شخص اللہ کی قسم کھائے تو چاہیئے کہ وہ سچ کہے ، اور جس سے اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو راضی ہونا چاہیئے ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام پہ راضی نہ ہو وہ اللہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2101]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان نے اللہ کی قسم کھائی، تو اب اس کے بیان کو مان لینا اور اس پر رضا مند ہو جانا چاہئے، اب اس سے یوں نہ کہنا چاہئے کہ تمہاری قسم جھوٹی ہے، یا اللہ کے سوا اب کسی اور شخص کی اس کو قسم نہ کھلانی چاہئے، جیسے جاہلوں کا ہمارے زمانہ میں حال ہے کہ اللہ کی قسم کھانے پر ان کی تسلی نہیں ہوتی، اور اس کے بعد پیر و مرشد یا نبی و رسول یا کعبہ یا ماں باپ کی قسم کھلاتے ہیں، یہ نری حماقت اور سراسر جہالت ہے، اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کا درجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے برابر بھی کوئی نہیں ہے، سب سے زیادہ مومن کو اللہ کے نام کی حرمت و عزت اور عظمت کرنی چاہئے، اور احتیاط رکھنی چاہئے کہ اول تو اللہ کے سوا اور کسی کی قسم ہی نہ کھائے، اور اگر عادت کے طور پر اور کسی کے نام کی قسم نکل جائے اور جھوٹ اور غلط ہو جائے تو فوراً لا إِلَهَ إِلا الله کہے یعنی میں اللہ رب العالمین کے سوا کسی اور کو اس معاملے میں عظمت و احترام کے لائق نہیں جانتا غیر کے الفاظ تو یونہی سہواً یا عادتاً میرے زبان سے نکل گئے تھے، مگر ایک بات یاد رہے کہ اللہ کے نام کی کبھی جھوٹی قسم نہ کھائے، اگر پیر، رسول، نبی، مرشد، ولی، غوث اور قطب وغیرہ کے نام پر لاکھوں قسمیں جھوٹ ہو جائیں تو اتنا ڈر نہیں ہے جتنا اللہ تعالی کے نام کی ایک قسم جھوٹ ہونے سے ہے، یہ حکم مسلمانوں کے لئے ہے کہ جب وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اب زیادہ تکلیف ان کو نہ دی جائے کہ وہ کسی اور کے نام کی بھی قسم کھائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ ابن عجلان عنعن ¤ وحديث ((لا تحلفوا بآبا ئكم)) صحيح متفق عليه (البخاري: 6648،مسلم 1646) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8439، ومصباح الزجاجة: 738) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #2101
2099 2100 2101 2102 2103

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2102 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي ب...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عیسیٰ بن مریم علیہ السلا...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ