سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2103
Sunan Ibn Majah 2103
کتاب #12: کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
5: بَابُ : الْيَمِينِ حِنْثٌ أَوْ نَدَمٌ
باب: قسم کھانے میں یا قسم توڑنا ہوتی ہے یا شرمندگی ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْحَلِفُ حِنْثٌ أَوْ نَدَمٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم یا تو حنث ( قسم توڑنا ) ہے یا ندامت ( شرمندگی ) ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2103]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ قسم اکثر ان دونوں باتوں سے خالی نہیں ہوتی، آدمی اکثر غصے میں بے سوچے سمجھے قسم کھا بیٹھتا ہے کہ فلانی چیز نہ کھائیں گے، یا فلانے سے بات نہ کریں گے، پھر ایسی ضرورت پیش آتی ہے کہ قسم توڑنی پڑتی ہے، اور جب توڑے تو کفارہ دینا پڑا، مال بے فائدہ خرچ ہوا، اور ندامت اور شرمندگی بھی ہوئی، اگر نہ توڑا تو بھی ندامت ہوئی کہ قسم کی وجہ سے ایک لذت سے محروم رہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ بشار بن كدام: ضعيف (تقريب: 673) ¤ وللحديث شاهد ضعيف موقوف عند الحاكم(303/4،304) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 454
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7434، ومصباح الزجاجة: 739) (ضعیف) (سند میں بشار بن کدام ضعیف راوی ہے)