سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2100
Sunan Ibn Majah 2100
کتاب #12: کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
3: بَابُ : مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ مِلَّةِ الإِسْلاَمِ
باب: اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب میں جانے کی قسم کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا لَمْ يَعُدْ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کہے اگر ایسا کروں تو اسلام سے بری ہوں ، اگر وہ جھوٹا ہے تو ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا ، اور اگر وہ اپنی بات میں سچا ہے تو بھی اسلام کی جانب صحیح سالم سے نہیں لوٹے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2100]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ اس نے اسلام کی عظمت تسلیم نہیں کی، اور دین کو ایسا حقیر سمجھا کہ بات بات پر اس سے جدا ہو جانے کی شرط لگاتا ہے، مسلمان کو ہرگز ایسی شرط نہ لگانی چاہئے، گو وہ کتنا ہی بڑا کام ہو، اپنا دین سب سے زیادہ پیارا ہے، اور سب پر مقدم ہے، کوئی کام ہو یا نہ ہو، دین کی شرط لگانے سے کیا فائدہ؟ اور حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جو کوئی ایسی شرط لگائے، پھر اس میں سچا بھی ہو جب بھی گنہگار ہو گا، اور اس کے دین میں خلل آئے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأیمان 9 (3258)، سنن النسائی/الأیمان 7 (3803)، (تحفة الأشراف: 1959)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/355، 356) (صحیح)