سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2098
Sunan Ibn Majah 2098
کتاب #12: کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
3: بَابُ : مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ مِلَّةِ الإِسْلاَمِ
باب: اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب میں جانے کی قسم کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا فَهُوَ كَمَا قَالَ".
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین میں چلے جانے کی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی ، تو وہ ویسے ہی ہو گا جیسا اس نے کہا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2098]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلاً یوں کہا: اگر میں فلاں کام کروں تو یہودی ہوں، یا نصرانی ہوں، یا اسلام سے یا نبی سے بری ہوں۔ اور اس کی طرح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کافر ہو جائے گا، اور اسلام سے نکل جائے گا، ظاہر حدیث کا یہی مطلب ہے، واضح رہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی سختی سے یہ بات اس لیے فرمائی کہ لوگ ایسا کہنے سے بچیں، ورنہ اگر اس کا عقیدہ اسلام کا ہے تو کافر نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز83 (1363)، الأدب 44 (6047)، 73 (6105)، الأیمان 7 (6652)، صحیح مسلم/الإیمان 47 (110)، سنن ابی داود/الأیمان 9 (3257)، سنن الترمذی/الأیمان 15 (1543)، سنن النسائی/الأیمان 6 (3801)، 31 (3822)، (تحفة الأشراف: 2062)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/33، 34) (صحیح)