سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2096
Sunan Ibn Majah 2096
کتاب #12: کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل
2: بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يَحْلِفَ بِغَيْرِ اللَّهِ
باب: اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ فِي يَمِينِهِ: بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قسم کھائی ، اور اپنی قسم میں لات اور عزیٰ کی قسم کھائی ، تو اسے چاہیئے کہ وہ «لا إله إلا الله» کہے : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2096]
💡 وضاحت:
۱؎: ”لات“ اور ”عزی“ دو بڑے بت تھے جن کی زمانہ جاہلیت میں عرب عبادت کرتے تھے، واضح رہے اگر بے اختیار عادت کے طور پر ان کا نام نکل جائے اور دل میں ان کی کوئی تعظیم نہ ہو تو آدمی کافر نہ ہو گا، اگر تعظیم کی نیت سے کہا تو وہ کافر و مرتد ہے، اس پر دوبارہ اسلام لانا واجب ہے (لمعات التنقیح)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر سورة النجم 2 (4860)، الادب 74 (6107)، الاستئذان 52 (6301)، الأیمان 5 (6650)، صحیح مسلم/الأیمان 2 (1647)، سنن ابی داود/الایمان 4 (2347)، سنن الترمذی/الأیمان 17 (1545)، سنن النسائی/الأیمان 10 (3806)، (تحفة الأشراف: 12276)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/309) (صحیح)