سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1841
Sunan Ibn Majah 1841
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
27: بَابُ : مَنْ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ
باب: جن لوگوں کے لیے زکاۃ حلال ہے ان کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ، إِلَّا لِخَمْسَةٍ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ لِغَنِيٍّ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ فَقِيرٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَاهَا لِغَنِيٍّ، أَوْ غَارِمٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مالدار کے لیے زکاۃ حلال نہیں ہے مگر پانچ آدمیوں کے لیے : زکاۃ وصول کرنے والے کے لیے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے ، یا ایسے مالدار کے لیے جس نے اپنے پیسے سے اسے خرید لیا ہو ، یا کوئی فقیر ہو جس پر صدقہ کیا گیا ہو ، پھر وہ کسی مالدار کو اسے ہدیہ کر دے ، ( تو اس مالدار کے لیے وہ زکاۃ حلال ہے ) یا وہ جو مقروض ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1841]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الزکاة 24 (1635)، (تحفة الأشراف: 4177)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 17 (29)، مسند احمد (3/4، 31، 40، 56، 97) (صحیح)