سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1843
Sunan Ibn Majah 1843
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
28: بَابُ : فَضْلِ الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ ابْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَمَامَهُ، فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ، وَيَنْظُرُ عَنْ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، وَيَنْظُرُ عَنْ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تم میں سے ہر شخص سے قیامت کے دن کلام کرے گا ، اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا ، وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ ہو گی ، دائیں جانب دیکھے گا تو اپنے اعمال کے سوا کچھ نہ پائے گا ، اور بائیں دیکھے گا تو اپنے اعمال کے سوا ادھر بھی کچھ نہ دیکھے گا ، لہٰذا تم میں سے جو جہنم سے بچ سکے تو اپنے بچاؤ کا سامان کرے ، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کر کے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1843]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 9 (1413)، 10 (1417)، المناقب 25 (3595)، الأدب 34 (6023)، الرقاق 49 (6539)، 51 (6563)، التوحید 36 (7512)، صحیح مسلم/الزکاة 20 (1016)، سنن الترمذی/صفة القیامة 1 (2415)، سنن النسائی/الزکاة 63 (2554)، (تحفة الأشراف: 9852)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/256، 258، 259، 377) (صحیح)