📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل (كتاب الزكاة) 🏷️ باب: باب: مالدار ہوتے ہوئے (بلا ضرورت) مانگنے پر وارد وعید کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1840 Sunan Ibn Majah 1840
کتاب #9: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
26: بَابُ : مَنْ سَأَلَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى
باب: مالدار ہوتے ہوئے (بلا ضرورت) مانگنے پر وارد وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَاءَتْ مَسْأَلَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُدُوشًا، أَوْ خُمُوشًا، أَوْ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ؟، قَالَ: " خَمْسُونَ دِرْهَمًا، أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ"، فَقَالَ رَجُلٌ لِسُفْيَانَ: إِنَّ شُعْبَةَ لَا يُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ سُفْيَانُ: قَدْ حَدَّثَنَاهُ زُبَيْدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو ، تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پہ زخم کا نشان بن کر آئے گا “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کتنا مال آدمی کو بے نیاز کرتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پچاس درہم یا اس کی مالیت کا سونا “ ۱؎ ۔ ایک شخص نے سفیان ثوری سے کہا : شعبہ تو حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے ؟ سفیان ثوری نے کہا کہ یہ حدیث ہم سے زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے روایت کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1840]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوداود کی روایت میں ہے: «غنا» کی حد یہ ہے کہ آدمی کے پاس صبح و شام کا کھانا ہو، اور ایک روایت میں ہے کہ ایک اوقیہ کا مالک ہو، اور اس روایت میں پچاس درہم مذکور ہے، شافعی نے دوسرے قول کو لیا ہے اور احمد اور اسحاق اور ابن مبارک نے پہلے قول کو، بعض لوگوں نے تیسرے قول کو اور ابوحنیفہ نے کہا جو دو سو درہم کا مالک ہے یا اس قدر مالیت کا اسباب اس کے پاس ہے اس کے لیے سوال صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1626) ترمذي (650،651) نسائي (2593) ¤ قزعة بن سويد: ضعيف (تقدم: 1455) ¤ والحديث السابق (الأصل: 1454) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 445
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الزکاة 23 (1626)، سنن الترمذی/الزکاة 22 (650)، سنن النسائی/الزکاة 87 (2593)، (تحفة الأشراف: 9387)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 441)، سنن الدارمی/الزکاة 5 1 (1680) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #1840
1838 1839 1840 1841 1842

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1838 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْ...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے لوگوں سے مال بڑھا...
#1839 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ و خیرات کسی مالدار...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ