سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1637
Sunan Ibn Majah 1637
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
65: بَابُ : ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَيْمَنَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ، وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا"، قَالَ: قُلْتُ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ، قَالَ: " وَبَعْدَ الْمَوْتِ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو ، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں ، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا “ میں نے عرض کیا : کیا مرنے کے بعد بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، مرنے کے بعد بھی ، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے ، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1637]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جنت کے کھانے ان کو کھلائے جاتے ہیں جو روحانی ہیں، یہاں زندگی سے دنیوی زندگی مراد نہیں ہے۔ اس لئے کہ دنیاوی زندگی قبر کے اندر قائم نہیں رہ سکتی، یہ برزخی زندگی ہے جس میں اور دنیاوی زندگی میں فرق ہے، مگر ہر حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف کے پاس درود و سلام سنتے ہیں، بلکہ یہ برزخی زندگی بہت باتوں میں دنیاوی زندگی سے زیادہ قوی اور بہتر ہے، «صلے اللہ علیہ وسلم وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیما کثیراً»
قال الشيخ الألباني:
ضعيف لكن غالبه فيما قبله
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال البخاري: ”زيد بن أيمن عن عبادة بن نسي مرسل“ (التاريخ الكبير 387/2) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10947، ومصباح الزجاجة: 596) (حسن) (سند میں زید بن ایمن اور عبادہ کے درمیان نیز عبادہ اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن اکثر متن حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1/ 35، تراجع الألبانی: رقم: 560)