سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1630
Sunan Ibn Majah 1630
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
65: بَابُ : ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَال: قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ: " يَا أَنَسُ كَيْفَ سَخَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟". (حديث موقوف) (حديث موقوف) وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ فَاطِمَةَ، قَالَتْ حِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرَائِيلَ أَنْعَاهُ، وَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، وَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ، وَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ"، قَالَ حَمَّادٌ: فَرَأَيْتُ ثَابِتًا حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى حَتَّى رَأَيْتُ أَضْلَاعَهُ تَخْتَلِفُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے انس ! تمہارے دل کو کیسے گوارا ہوا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو ؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ہائے میرے والد ، میں جبرائیل کو ان کے مرنے کی خبر دیتی ہوں ، ہائے میرے والد ، اپنے رب کے کتنے نزدیک ہو گئے ، ہائے میرے والد ، جنت الفردوس میں ان کا ٹھکانہ ہے ، ہائے میرے والد ، اپنے رب کا بلانا قبول کیا ۔ حماد نے کہا : میں نے ثابت کو دیکھا کہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد روئے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں اوپر نیچے ہونے لگیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1630]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ ماہ بعد آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال آپ کی پیش گوئی کے مطابق ہو گیا، اور چہیتی بیٹی اپنے باپ سے جا ملیں، اب کوئی یہ نہ سمجھے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جو یہ کلمات سخت رنج کی حالت میں فرمائے یہ نیاحت میں داخل ہیں جب کہ وہ منع ہے واضح رہے کہ نیاحت وہ ہے جو چلا کر بلند آواز سے ہو، نہ وہ جو آہستہ سے کہا جائے، اور اگر یہ نیاحت ہوتی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا اسے ہرگز نہ کرتیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 83 (4448)، (تحفة الأشراف: 302)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 14 (88) (صحیح)