📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز) 🏷️ باب: باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1627 Sunan Ibn Majah 1627
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
65: بَابُ : ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، عِنْدَ امْرَأَتِهِ ابْنَةِ خَارِجَةَ بِالْعَوَالِي، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: لَمْ يَمُتِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا هُوَ بَعْضُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ عِنْدَ الْوَحْيِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَقَالَ: أَنْتَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُمِيتَكَ مَرَّتَيْنِ قَدْ، وَاللَّهِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يَمُوتُ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ كَثِيرٍ، وَأَرْجُلَهُمْ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ، فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَمْ يَمُتْ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ سورة آل عمران آية 144"، قَالَ عُمَرُ: فَلَكَأَنِّي لَمْ أَقْرَأْهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے ساتھ جو کہ خارجہ کی بیٹی تھیں عوالی مدینہ میں تھے ، لوگ کہنے لگے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وحی کے وقت جو حال آپ کا ہوا کرتا تھا ویسے ہی ہو گیا ہے ، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا ، اور کہا : آپ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز و محترم ہیں کہ آپ کو دو بار موت دے ۱؎ ، قسم اللہ کی ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں ، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک گوشہ میں یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرے نہیں ہیں ، اور نہ آپ مریں گے ، یہاں تک کہ بہت سے منافقوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے ، آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، منبر پر چڑھے اور کہا : جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے ، مرا نہیں ، اور جو کوئی محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد وفات پا گئے ، ( پھر یہ آیت پڑھی ) : «وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاكرين» ( سورة آل عمران : 144 ) ” محمد صرف ایک رسول ہیں ، ان سے پہلے بہت سے رسول آئے ، اگر آپ کا انتقال ہو جائے یا قتل کر دئیے جائیں ، تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ، اور جو پھر جائے گا وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا ، اور اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا “ ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس دن سے پہلے کبھی اس آیت کو میں نے پڑھا ہی نہیں تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1627]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ کہہ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کا رد کیا جو کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر دنیا میں لوٹ کر آئیں گے، اور منافقوں کے ہاتھ پیر کاٹیں گے کیونکہ اگر ایسا ہو تو اس کے بعد پھر وفات ہو گی، اس طرح دو موتیں جمع ہو جائیں گی۔ اور بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ ہو گی، ایک دنیا کی موت تھی جو ہر بشر کو لازم تھی وہ آپ کو بھی ہوئی نیز اس کے بعد پھر آپ کو راحت ہی راحت ہے۔ اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ آپ کا نام اور آپ کا دین ہمیشہ قائم رہے گا،کبھی ختم ہونے والا نہیں، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ میت کا بوسہ لینا جائز ہے، اور میت کو موت کے بعد ایک چادر سے ڈھانپ دینا چاہئے تاکہ لوگ اس کی صورت دیکھ کر گھبرائیں نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون جملة الوحي
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن أبي بكر المليكي: ضعيف ¤ وأصل الحديث صحيح ¤ أخرجه البخاري (1241،1242) وغيره نحوه بإختلاف يسير ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 3 (1241)، المغازي 83 (4452)، سنن النسائی/الجنائز 11 (1842)، (تحفة الأشراف: 6632)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/117) (صحیح) (البانی صاحب کہتے ہیں کہ وحی کے جملہ کے علاوہ حدیث صحیح ہے)
سنن ابن ماجه • حدیث #1627
1625 1626 1627 1628 1629

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1628 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ،...
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وس...
#1629 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدّ...
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی سختی محسوس کی تو فاطم...
#1630 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ح...
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے انس ! تمہارے دل کو کیسے ...
#1631 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، حَد...
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے اس دن مد...
#1632 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْي...
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی عورتوں س...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ