سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1533
Sunan Ibn Majah 1533
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
32: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءُ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَتُوُفِّيَتْ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِمَوْتِهَا، فَقَالَ: " أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟ فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ، فَوَقَفَ عَلَى قَبْرِهَا، فَكَبَّرَ عَلَيْهَا، وَالنَّاسُ خَلْفَهُ وَدَعَا لَهَا، ثُمَّ انْصَرَفَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ، ایک رات اس کا انتقال ہو گیا ، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے مرنے کی اطلاع دی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں نے مجھے خبر کیوں نہ دی “ ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ نکلے اور اس کی قبر پر کھڑے ہو کر تکبیر کہی ، اور لوگ آپ کے پیچھے تھے ، آپ نے اس کے لیے دعا کی پھر آپ لوٹ آئے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1533]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبر پر نماز جنازہ صحیح ہے، سنن ترمذی میں ایک حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سعد کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی، ان کے دفن پر ایک مہینہ گزر چکا تھا، نیز یہ حدیث عام ہے خواہ اس میت پر لوگ نماز جنازہ پڑھ چکے ہوں یا کسی نے نہ پڑھی ہو، ہر طرح اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھنا صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن لهيعة عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4069، ومصباح الزجاجة: 545) (صحیح) (سابقہ حدیث تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں)