سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1529
Sunan Ibn Majah 1529
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ مَاتَتْ، وَلَمْ يُؤْذَنْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: " هَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟"، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: " صُفُّوا عَلَيْهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت کا انتقال ہو گیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی ، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی “ ؟ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا : اس پہ صف باندھو ، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1529]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5040، ومصباح الزجاجة: 543)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/444) (حسن صحیح)