سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1530
Sunan Ibn Majah 1530
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَدَفَنُوهُ بِاللَّيْلِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَعْلَمُوهُ، فَقَالَ: " مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي"، قَالُوا: كَانَ اللَّيْلُ، وَكَانَتِ الظُّلْمَةُ فَكَرِهْنَا أَنْ نَشُقَّ عَلَيْكَ، فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کا انتقال ہو گیا ، جس کی عیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ، لوگوں نے اسے رات میں دفنا دیا ، جب صبح ہوئی اور لوگوں نے ( اس کی موت کے بارے میں ) آپ کو بتایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی “ ؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور تاریکی تھی ، ہم نے آپ کو تکلیف دینا اچھا نہیں سمجھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے پاس آئے ، اور اس کی نماز جنازہ پڑھی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1530]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 161 (857)، الجنائز5 (1247)، 54 (1321)، 55 (1322)، 59 (1326)، 66 (1336)، 69 (1340)، صحیح مسلم/الجنائز 23 (954)، سنن ابی داود/الجنائز 58 (3196)، سنن الترمذی/الجنائز 47 (1037)، سنن النسائی/الجنائز94 (2025، 2026)، (تحفة الأشراف: 5766)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/224، 238، 338) (صحیح)