سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1513
Sunan Ibn Majah 1513
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
28: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ وَدَفْنِهِمْ
باب: شہداء کی نماز جنازہ اور ان کی تدفین۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أُتِيَ بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَى عَشَرَةٍ عَشَرَةٍ، وَحَمْزَةُ هُوَ كَمَا هُوَ، يُرْفَعُونَ، وَهُوَ كَمَا هُوَ مَوْضُوعٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن شہداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے ، تو آپ دس دس آدمیوں پر نماز جنازہ پڑھنے لگے ، اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش اسی طرح رکھی رہی اور باقی لاشیں نماز جنازہ کے بعد لوگ اٹھا کر لے جاتے رہے ، لیکن حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش جیسی تھی ویسی ہی رکھی رہی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1513]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6497، ومصباح الزجاجة: 540) (صحیح) (شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہے)