سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1511
Sunan Ibn Majah 1511
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
27: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذِكْرِ وَفَاتِهِ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے کی وفات کا ذکر اور ان کی نماز جنازہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا، وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ، وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہو گیا ، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ، اور فرمایا : ” جنت میں ان کے لیے ایک دایہ ہے ، اور اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے ، اور ان کے ننہال کے قبطی آزاد ہو جاتے ، اور کوئی بھی قبطی غلام نہ بنایا جاتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1511]
💡 وضاحت:
۱؎: قبطی: ایک مصری قوم ہے، فرعون اسی قوم سے تھا، اور اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ہاجرہ بھی اسی قوم کی تھیں، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی والدہ ماریہ بھی اسی قوم کی تھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون جملة العتق
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ أبو شيبة إبراهيم بن عثمان: متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6482، ومصباح الزجاجة: 538) (صحیح) (اس کی سند میں ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ متروک الحدیث ہے، لیکن عتق کے جملہ کے علاوہ بقیہ حدیث عبد اللہ بن ابی اوفی سے صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: 235)