سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1514
Sunan Ibn Majah 1514
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
28: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ وَدَفْنِهِمْ
باب: شہداء کی نماز جنازہ اور ان کی تدفین۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ: " أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ"، فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمْ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: " أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین کو ایک کپڑے میں لپیٹتے ، پھر پوچھتے : ” ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے “ ؟ جب ان میں سے کسی ایک کی جانب اشارہ کیا جاتا ، تو اسے قبر ( قبلہ کی طرف ) میں آگے کرتے ، اور فرماتے : ” میں ان لوگوں پہ گواہ ہوں ، ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خونوں کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا ، نہ تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی ، اور نہ غسل دلایا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1514]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہداء کو غسل نہیں دیا جائے گا، اس پر سب کا اتفاق ہے، نیز امام احمد کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہیدوں کو غسل دینے سے منع کیا، اور فرمایا: ”اس کا زخم قیامت کے دن مشک کی خوشبو چھوڑے گا“ اور حنظلہ رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں شہید ہوئے تھے، جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غسل نہیں دیا، اور فرمایا: ”فرشتے ان کو غسل دیتے ہیں“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز72 (1343)، 73 (1245)، 75 (1347)، 78 (1353)، المغازي 126 (4079)، سنن ابی داود/ الجنائز 31 (3138، 3139)، سنن الترمذی/الجنائز46 (1036)، سنن النسائی/الجنائز62 (1957)، (تحفة الأشراف: 2382) (صحیح)