📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز) 🏷️ باب: باب: موت کی خبر دینے کی ممانعت۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1476 Sunan Ibn Majah 1476
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
14: بَابُ : مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ النَّعْيِ
باب: موت کی خبر دینے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ إِذَا مَاتَ لَهُ الْمَيِّتُ، قَالَ: لَا تُؤْذِنُوا بِهِ أَحَدًا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ: " يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ".
بلال بن یحییٰ کہتے ہیں کہ جب حذیفہ رضی اللہ عنہ کا کوئی رشتہ دار انتقال کر جاتا تو کہتے : کسی کو اس کے انتقال کی خبر مت دو ، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ «نعی» ۱؎ نہ ہو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان کانوں سے «نعی» سے منع فرماتے سنا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1476]
💡 وضاحت:
۱؎: «نعی» : کسی کے مرنے کی خبر دینے کو «نعی» کہتے ہیں، «نعی» جائز ہے، خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر دی ہے اسی طرح زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی وفات کی خبریں بھی آپ نے لوگوں کو دی ہیں، جس «نعی» کی ممانعت حدیثوں میں وارد ہے، یہ وہ «نعی» ہے جسے اہل جاہلیت کرتے تھے، جب کوئی مر جاتا تو وہ ایک شخص کو بھیجتے جو محلوں اور بازاروں میں پھر پھر کر اس کے مرنے کا اعلان کرتا۔
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ ترمذي (986) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجنائز 12 (986)، (تحفة الأشراف: 3303)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 406) (حسن)
سنن ابن ماجه • حدیث #1476
1474 1475 1476 1477 1478
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ