سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1477
Sunan Ibn Majah 1477
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
15: بَابُ : مَا جَاءَ فِي شُهُودِ الْجَنَائِزِ
باب: جنازہ میں شرکت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ، فَإِنْ تَكُنْ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنازہ کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو نیکی کی طرف جلدی پہنچا دو گے ، اور اگر بد ہے تو بدی کو اپنی گردن سے اتار پھینکو گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1477]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 51 (1315)، صحیح مسلم/الجنائز 16 (944)، سنن ابی داود/الجنائز50 (3181)، سنن الترمذی/الجنائز30 (1015)، سنن النسائی/الجنائز 44 (1911)، (تحفة الأشراف: 13124)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 16 (56)، مسند احمد (2/240) (صحیح)