سنن أبي داود حدیث نمبر: 607
Sunan Abi Dawud 607
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
69: باب الإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ
باب: امام کے بیٹھ کر نماز پڑھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي حُصَيْنٌ مِنْ وَلَدِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّهُمْ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ إِمَامَنَا مَرِيضٌ، فَقَالَ: " إِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ.
اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی امامت کرتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے، تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے امام بیمار ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم لوگ بھی بیٹھ کر پڑھو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث متصل نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 607]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ محمد بن صالح الأزرق مجھول الحال وحصين بن عبد الرحمٰن الأشھلي لم يدرك أسيد بن حضير ¤ وثبت عن أسيد نحوه موقوفًا انظر الأوسط لابن المنذر (4/ 206،اثر: 2045 وسنده صحيح) وصححه الحافظ في فتح الباري (3/ 176) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 152) (صحیح) (سابقہ حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث معنیً صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں انقطاع ہے، حصین کی اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے لقاء ثابت نہیں ہے)