سنن أبي داود حدیث نمبر: 603
Sunan Abi Dawud 603
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
69: باب الإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ
باب: امام کے بیٹھ کر نماز پڑھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ المعنى، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَلَا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، قَالَ مُسْلِمٌ: وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَلَا تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ سُلَيْمَانَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، تو جب امام «الله أكبر» کہے تو تم بھی «الله أكبر» کہو، تم اس وقت تک «الله أكبر» نہ کہو جب تک کہ امام «الله أكبر» نہ کہہ لے، اور جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، تم اس وقت تک رکوع نہ کرو جب تک کہ وہ رکوع میں نہ چلا جائے، جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا لك الحمد» کہو (مسلم کی روایت میں «ولك الحمد» واو کے ساتھ ہے)، پھر جب امام سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور تم اس وقت تک سجدہ نہ کرو جب تک کہ وہ سجدہ میں نہ چلا جائے، اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اللهم ربنا لك الحمد» کو مجھے میرے بعض ساتھیوں نے سلیمان کے واسطہ سے سمجھایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 603]
💡 وضاحت:
۱؎: ابتدائے اسلام میں حکم ایسے ہی تھا کہ امام اور مقتدی دونوں ایک ہی حالت میں ہوں۔ لیکن اب یہ حکم نہیں ہے، بلکہ امام کسی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھیں گے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل یہی تھا۔ مقتدی کے لیے واجب ہے کہ انتقال ارکان میں امام سے پیچھے رہے، اس سے سبقت (پہل) نہ کرے۔ یعنی جب میں نے یہ حدیث سلیمان بن حرب سے سنی تو «اللهم ربنا لك الحمد» کے الفاظ میری سمجھ میں نہیں آئے تو میرے بعض ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ سلیمان نے: «اللهم ربنا لك الحمد» کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 12882)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 20 (417)، سنن النسائی/الافتتاح 30 (920)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 13 (846)، 144 (1238)، مسند احمد (2/376، 420) (صحیح)