سنن أبي داود حدیث نمبر: 604
Sunan Abi Dawud 604
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
69: باب الإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ
باب: امام کے بیٹھ کر نماز پڑھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، بِهَذَا الْخَبَرِ، زَادَ: وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ الْوَهْمُ عِنْدَنَا مِنْ أَبِي خَالِدٍ.
اس طریق سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے «إنما جعل الإمام ليؤتم به» والی یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے، اس میں راوی نے «وإذا قرأ فأنصتوا» ”جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو“ کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «وإذا قرأ فأنصتوا» کا یہ اضافہ محفوظ نہیں ہے، ہمارے نزدیک ابوخالد کو یہ وہم ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 604]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (857) ¤ أخرجه مسلم (404) ولكنه منسوخ بحديث أبي ھريرة كما في صحيح مسلم (395)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الإفتتاح 20(922)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 13 (846)، (تحفة الأشراف: 12317)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/420) (صحیح)