سنن أبي داود حدیث نمبر: 5025
Sunan Abi Dawud 5025
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
96: باب فِي الرُّؤْيَا
باب: خواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے آج رات دیکھا جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں، اور ہمارے پاس ابن طاب ۱؎ کی رطب تازہ (کھجوریں) لائی گئیں، تو میں نے یہ تعبیر کی کہ دنیا میں بلندی ہمارے واسطے ہے اور آخرت کی عاقبت ۲؎ بھی اور ہمارا دین سب سے عمدہ اور اچھا ہو گیا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5025]
💡 وضاحت:
۱؎: ابن طاب ایک قسم کی کھجورہے، اس سے دین کی عمدگی اور پاکی نکلی رافع کے لفظ سے دنیا میں رفعت اور بلندی۔
۲؎: اور عقبہ عاقبت کی بھلائی۔
۲؎: اور عقبہ عاقبت کی بھلائی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2270)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الرؤیا 4 (2270)، (تحفة الأشراف: 316)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/286) (صحیح)