سنن أبي داود حدیث نمبر: 5020
Sunan Abi Dawud 5020
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
96: باب فِي الرُّؤْيَا
باب: خواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرْ فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَلَا تَقُصَّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ".
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواب پرندے کے پیر پر ہوتا ہے ۱؎ جب تک اس کی تعبیر نہ بیان کر دی جائے، اور جب اس کی تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے“۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا ”اور اسے اپنے دوست یا کسی صاحب عقل کے سوا کسی اور سے بیان نہ کرے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5020]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تعبیر بیان کئے جانے تک اس خواب کے لئے جائے قرار اور ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4622)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الرؤیا 6 (2278)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 6 (3914)، (تحفة الأشراف: 11174)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/10، 11، 12، 13) سنن الدارمی/الرؤیا 11 (2194) (صحیح)