سنن أبي داود حدیث نمبر: 5024
Sunan Abi Dawud 5024
کتاب #43: کتاب: آداب و اخلاق کا بیان
96: باب فِي الرُّؤْيَا
باب: خواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَةً، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی تصویر بنائے گا، اس کی وجہ سے اسے (اللہ) قیامت کے دن عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں جان ڈال دے، اور وہ اس میں جان نہیں ڈال سکتا، اور جو جھوٹا خواب بنا کر بیان کرے گا اسے قیامت کے دن مکلف کیا جائے گا کہ وہ جَو میں گرہ لگائے ۱؎ اور جو ایسے لوگوں کی بات سنے گا جو اسے سنانا نہیں چاہتے ہیں، تو اس کے کان میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 5024]
💡 وضاحت:
۱؎: اور وہ یہ نہیں کر سکے گا کیونکہ جَو میں گرہ لگانا ممکن نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (7042)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التعبیر 45 (7042)، سنن الترمذی/اللباس 19 (1751)، الرؤیا 8 (2283)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 59 (5361)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 8 (3916)، (تحفة الأشراف: 5586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/216، 241، 146، 350، 359، 360) (صحیح)