سنن أبي داود حدیث نمبر: 4770
Sunan Abi Dawud 4770
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
32: باب فِي قِتَالِ اللُّصُوصِ
باب: چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: " إِنْ كَانَ ذَلِكَ الْمُخْدَجُ لَمَعَنَا يَوْمَئِذٍ فِي الْمَسْجِدِ نُجَالِسُهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَكَانَ فَقِيرًا وَرَأَيْتُهُ مَعَ الْمَسَاكِينِ يَشْهَدُ طَعَامَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ النَّاسِ، وَقَدْ كَسَوْتُهُ بُرْنُسًا لِي"، قَالَ أَبُو مَرْيَمَ: وَكَانَ الْمُخْدَجُ يُسَمَّى نَافِعًا ذَا الثُّدْيَةِ، وَكَانَ فِي يَدِهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، عَلَى رَأْسِهِ حَلَمَةٌ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ، عَلَيْهِ شُعَيْرَاتٌ مِثْلُ سِبَالَةِ السَّنَّوْرِ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ عِنْدَ النَّاسِ اسْمُهُ حَرْقُوسُ.
ابومریم کہتے ہیں کہ یہ «مخدج» (لنجا) مسجد میں اس دن ہمارے ساتھ تھا ہم اس کے ساتھ رات دن بیٹھا کرتے تھے، وہ فقیر تھا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ مسکینوں کے ساتھ آ کر علی رضی اللہ عنہ کے کھانے پر لوگوں کے ساتھ شریک ہوتا تھا اور میں نے اسے اپنا ایک کپڑا دیا تھا۔ ابومریم کہتے ہیں: لوگ «مخدج» (لنجے) کو «نافعا ذا الثدية» (پستان والا) کا نام دیتے تھے، اس کے ہاتھ میں عورت کے پستان کی طرح گوشت ابھرا ہوا تھا، اس کے سرے پر ایک گھنڈی تھی جیسے پستان میں ہوتی ہے اس پر بلی کی مونچھوں کی طرح چھوٹے چھوٹے بال تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لوگوں کے نزدیک اس کا نام حرقوس تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4770]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أبو مريم الثقفي ثقة ونعيم بن حكيم حسن الحديث علي الراجح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10333) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی نُعیم حافظہ کے کمزور راوی ہیں)