سنن أبي داود حدیث نمبر: 4765
Sunan Abi Dawud 4765
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، وَمُبَشِّرٌ يَعْنِيَ ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ يَعْنِي الْوَلِيدَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ عَلَى فُوقِهِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ: " التَّحْلِيقُ".
ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں اختلاف اور تفرقہ ہو گا، کچھ ایسے لوگ ہوں گے، جو باتیں اچھی کریں گے لیکن کام برے کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ (اپنی روش سے) باز نہیں آئیں گے جب تک تیر سوفار (اپنی ابتدائی جگہ) پر الٹا نہ آ جائے، وہ سب لوگوں اور مخلوقات میں بدترین لوگ ہیں، بشارت ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے یا جسے وہ قتل کریں، وہ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے، حالانکہ وہ اس کی کسی چیز سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے ہوں گے، جو ان سے قتال کرے گا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے قریب ہو گا“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کی نشانی کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈانا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4765]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قتادة مدلس وعنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ ومابعدہ، (تحفة الأشراف: 1312) (صحیح) (قتادة کا ابوسعید خدری سے سماع نہیں ہے، ہاں، انس سے ثابت ہے)