سنن أبي داود حدیث نمبر: 4763
Sunan Abi Dawud 4763
کتاب #42: کتاب: سنتوں کا بیان
32: باب فِي قِتَالِ اللُّصُوصِ
باب: چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالَا: أخبرنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، أَنَّ عَلِيًّا ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَقَالَ: " فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا، لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ , عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ".
عبیدہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان ۱؎ کا ذکر کیا اور کہا: ان میں چھوٹے ہاتھ کا ایک آدمی ہے، اگر مجھے تمہارے اترانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کس چیز کا وعدہ کیا ہے ان لوگوں کے لیے جو ان سے جنگ کریں گے، راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا آپ نے اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں رب کعبہ کی قسم۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4763]
💡 وضاحت:
۱؎: بغداد اور واسط کے درمیان تین گاؤں ہیں جن میں ایک اونچائی پر ہے دوسرا درمیان میں اور تیسرا نشیب میں، اسی جگہ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے ساتھ جنگ کی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1066)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 48 (1066)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 12 (167)، (تحفة الأشراف: 10233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/83، 95، 144، 155، 113، 121، 122) (صحیح)