سنن أبي داود حدیث نمبر: 4264
Sunan Abi Dawud 4264
کتاب #37: کتاب: فتنوں اور جنگوں کا بیان
3: باب فِي كَفِّ اللِّسَانِ
باب: فتنے میں زبان کو قابو میں رکھنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَتَكُونُ فِتْنَةٌ صَمَّاءُ بَكْمَاءُ عَمْيَاءُ مَنْ أَشْرَفَ لَهَا اسْتَشْرَفَتْ لَهُ وَإِشْرَافُ اللِّسَانِ فِيهَا كَوُقُوعِ السَّيْفِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایک بہرا گونگا اور اندھا فتنہ ہو گا ۱؎ جو اس میں جھانکے گا اسے وہ اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اور زبان چلانا اس میں ایسے ہو گا جیسے تلوار چلانا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4264]
💡 وضاحت:
۱؎: فتنہ کے بہرے ہونے سے مراد یہ ہے کہ آدمی حق بات سننے والا نہیں ہو گا، اور اس کے گونگے ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس میں حق بات بولنے والا کوئی نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن البيلماني: ضعيف (تق: 3819) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 151
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13944) (ضعیف)