سنن أبي داود حدیث نمبر: 4262
Sunan Abi Dawud 4262
کتاب #37: کتاب: فتنوں اور جنگوں کا بیان
2: باب فِي النَّهْىِ عَنِ السَّعْىِ، فِي الْفِتْنَةِ
باب: فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے سامنے فتنے ہوں گے اندھیری رات کی گھڑیوں کی طرح ۱؎ ان میں صبح کو آدمی مومن رہے گا اور شام کو کافر، اور شام کو مومن رہے گا اور صبح کو کافر، اس میں بیٹھا ہوا کھڑے شخص سے بہتر ہو گا، اور کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا“، لوگوں نے عرض کیا: تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے گھر کا ٹاٹ بن جانا“ ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4262]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہر فتنہ پہلے فتنہ سے زیادہ بڑا ہو گا جیسے اندھیری رات کی ہر گھڑی پہلی سے زیادہ تاریک ہوتی ہے۔
۲؎: یعنی گھر میں پڑے رہنا۔
۲؎: یعنی گھر میں پڑے رہنا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (5399) ¤ وله شاھد انظر الحديث السابق (4259)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، انظرحدیث رقم: (4259)، (تحفة الأشراف: 9149)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/408) (صحیح)