سنن أبي داود حدیث نمبر: 4197
Sunan Abi Dawud 4197
کتاب #35: کتاب: بالوں اور کنگھی چوٹی کے احکام و مسائل
15: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ
باب: چوٹی رکھنے کی اجازت کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي الْمُغِيرَةُ، قَالَتْ: وَأَنْتَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ وَلَكَ قَرْنَانِ أَوْ قُصَّتَانِ، فَمَسَحَ رَأْسَكَ وَبَرَّكَ عَلَيْكَ، وَقَالَ: " احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا فَإِنَّ هَذَا زِيُّ الْيَهُودِ".
حجاج بن حسان کا بیان ہے ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، مجھ سے میری بہن مغیرہ نے بیان کیا: تو اس وقت لڑکا تھا اور تیرے سر پر دو چوٹیاں یا دو لٹیں تھیں تو انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی اور کہا: ان دونوں کو مونڈوا ڈالو، یا انہیں کاٹ ڈالو کیونکہ یہ یہود کا طریقہ ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 4197]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ مغيرة بنت حسان،لم أجد من وثقها فھي: مجهولة،كما في التحرير (8685) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 149
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 522) (ضعیف الإسناد)