سنن أبي داود حدیث نمبر: 3992
Sunan Abi Dawud 3992
کتاب #32: کتاب: قرآن کریم کی بابت لہجوں اور قراتوں کا بیان
1: باب
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ: لَمْ أَفْهَمْهُ جَيِّدًا، عَنْ صَفْوَانَ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ ابْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقْرَأُ: وَنَادَوْا يَا مَالِكُ سورة الزخرف آية 77"، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي بِلَا تَرْخِيمٍ.
یعلیٰ بن امیہ۔ منیہ۔ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر «ونادوا يا مالك» ”اور پکار پکار کہیں گے اے مالک!“ (سورۃ الزخرف: ۷۷) پڑھتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی بغیر ترخیم کے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3992]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (4819) صحيح مسلم (871)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 7 (3230)، وتفسیر القرآن 1 (3266)، صحیح مسلم/الجمعة 13 (871)، سنن الترمذی/الجمعة 13 (508)، (تحفة الأشراف: 11838)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/223) (صحیح)