سنن أبي داود حدیث نمبر: 3990
Sunan Abi Dawud 3990
کتاب #32: کتاب: قرآن کریم کی بابت لہجوں اور قراتوں کا بیان
1: باب
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَذْكُرُ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 0 بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ 0"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ الرَّبِيعُ لَمْ يُدْرِكْ أُمَّ سَلَمَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت «بلى قد جاءتك آياتي فكذبت بها واستكبرت وكنت من الكافرين» ”ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے“ (سورۃ الزمر: ۵۹) ۱؎ (واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3990]
💡 وضاحت:
وضاحت ۱؎: جمہور کی قرات واحد مذکر حاضر کے صیغہ کے ساتھ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ السند منقطع كما بينه المؤلف رحمه اللّٰه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 142
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1850) (ضعیف الإسناد)