سنن أبي داود حدیث نمبر: 3726
Sunan Abi Dawud 3726
کتاب #27: کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل
19: باب فِي السَّاقِي مَتَى يَشْرَبُ
باب: جو شخص قوم کا ساقی ہو وہ کب پئے؟
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أُتِيَ بِلَبَن ٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں ایک دیہاتی اور بائیں ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو (پیالہ) دے دیا اور فرمایا: ”دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں ہو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3726]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر چیز کی ابتدا داہنی طرف سے مسنون و مستحب ہے، گرچہ بائیں طرف والے لوگ معاشرہ کے معزز افراد ہوں، ہاں اگر کسی نے پانی مانگا تو وہ سب سے پہلے اس کا مستحق ہے، لیکن وہ اپنے دائیں طرف والوں کو دے دے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۷۲۹) میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5619) صحيح مسلم (2029)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأشربة 14 (5612، 1893)، 18 (5619)، المساقاة 1 (2352)، الھبة 4 (2571)، صحیح مسلم/الأشربة 17 (2029)، سنن الترمذی/الأشربة 19 (1893)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 22 (3425)، (تحفة الأشراف: 1528)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی 9 (17)، مسند احمد (3/110، 113، 197)، سنن الدارمی/الأشربة 18 (2162) (صحیح)